
جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقے کا یزید ابن معاویہ
یا ایران کے شہر یزد سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم جدید فارسی لفظ ایزد سے ہے جس کا
مطلب خدا۔ ایزدیز نام کا عام مطلب خدا کے عبادت کرنے والے ہیں اور یزیدی بھی اپنے
فرقے کا نام اسی طرح سے بیان کرتے ہیں۔ یزیدی قرآن اور بائبل کا احترام کرتے ہیں
لیکن ان کی اپنی روایات زبانی ہی ہیں۔ رازداری کی وجہ سے یزیدی فرقے کے بارے میں
غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں کہ اس فرقے کا تعلق پارسی مذہب سے ہے، جس میں یہ
روشنی اور تاریکی کے علاوہ سورج تک کی پوجا کرتے ہیں۔
موجودہ تحقیق کے مطابق اگرچہ ان کے عبادت خانے سورج کی تصاویر
سے سجائے جاتے ہیں اور ان کی قبروں کا رخ مشرق کی جانب سے طلوع آفتاب کی طرف ہوتا
ہے، تاہم ان کے عقیدے میں اسلام اور عیسائیت کے کئی جز شامل ہیں۔ ان کے غیرمعمولی عقیدے کی وجہ سے اکثر اوقات اس
فرقے کو بے جا شیطان کی عبادت کرنے والا گروہ کہا جاتا ہے۔
شادی کی تقریب میں
یزیدی راہب روٹی دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ دلھا اور ایک حصہ دلھن کو دیتا
ہے۔ شادی کی تقریب میں دلھن سرخ لباس پہنتی ہے اور چرچ جاتی ہے۔ دسمبر میں یزیدی
راہب سے سرخ شراب پینے کے بعد تین دن روزہ رکھتے ہیں۔ 15 سے 20 دسمبر کے دوران یہ
موصل کے شمال میں واقع شیخ ادی کے مزار پر جاتے ہیں اور وہاں دریا میں مذہبی
رسومات ادا کرتے ہیں جس میں جانوروں کی قربانی بھی شامل ہے۔
اس فرقے کے خدا کو
یزدان کہا جاتا ہے اور اس کا اتنا اعلیٰ مقام ہوتا ہے اس کی براہ راست عبادت نہیں
کی جا سکتی۔ اسے غیر متحرک طاقت کے مالک سمجھا جاتا ہے، اور وہ زمین کا نگہبان
نہیں بلکہ خالق سمجھا جاتا ہے۔ اور اس سے سات عظیم روحانی طاقتیں نکلی ہیں جن میں ایک
فرشتہ ملک طاؤس ہے اور جو خداوندی احکامات پر عمل درآمد کراتا ہے۔ ملک طاؤس کو خدا
کا ہمزاد تصور کیا جاتا ہے۔
یزیدی ملک طاؤس کی دن
میں پانچ بار عبادت کرتے ہیں۔ یزیدیوں کے نزدیک ملک طاؤس کا دوسرا نام شیطان ہے،
جو عربی میں ابلیس کو کہتے ہیں، اور اسی وجہ سے یزیدی فرقے کو شیطان کی عبادت کرنے
والا کہا جاتا ہے۔ یزیدی عقائد کے مطابق روح ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے
اور بار بار پیدائش کا عمل روح کو خالص بناتا ہے۔ کسی بھی یزیدی کی بدترین سزا اسے
برادری سے خارج کیا جانا ہے اور اس کا مطلب ہوتا ہے اس کی روح کا خالص ہونے کا عمل
رک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یزیدیوں کا کسی دوسرا مذہب اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا
نہیں ہوتا۔
0 Comments